PIAپی آئ اے پر بین کی اصل حقیقت
بڑی حیرانگی کی بات ہے کل سے کچھ لوگوں نے یہ دھمال مکے رکھا ہے کہ پی آئی اے پر EASA یعنی یورپی یونین ایویشن سیفٹی ایجنسی نے 6 ماہ کی پابندی لگا کر پی آئی اے کو اور نقصان پہنچایا ، ان نالائقوں کو یہ پتہ نہیں کہ ان دنوں دنیا کی تقریبا تمام چھوٹی بڑی ائیر لائینز اپنے جہاز گراٶنڈ کر چکی ہیں۔ دنیا کا فضائی آپریشن تقریبا معطل ہے سرحدیں بند ہیں ، صرف ایمرجنسی پروازیں چل رہی ہیں۔
ان خالی الدماغ دانشوروں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ
E
کپی آئی اے کے ساتھ مسلہ 2012 سے قبل کا چل رہا ہے۔2012 میں بھی اسی طرح پابندی لگی تھی۔ پھر 2016 میں دوبارہ یہ ایشو اٹھا ۔ بار بار EASA تسلی بخش جوابات چاہتی تھی لیکن جواب دینے والے تو خود وہی سوال کھڑے کر چکے تھے جن پر EASA کو اعتراض تھا۔ 2012 میں زرداری کی حکومت تھی جس میں خورشید شاہ نے اپنے بندے اندر کئے۔ پھر 2016 میں نواز شریف کی حکومت تھی جس میں نالائق مشاہداللہ خان نے اپنے بندے اندر کروائے۔
ان دونوں نے وہی مسلے کھڑے کئے تھے جن کا جواب EASA مانگ رہا تھا۔ یعنی پائلٹوں کی قابلیت اور ٹریننگ، بھرتی کا طریقہ کار، گراونڈ سٹاف، انجنیرنگ وغیرہ۔ اب خورشید شاہ یا مشاہداللہ کیسے ان خرابیوں کا جواب دیتے جو یہ خود کھڑے کر چکے تھے۔
اسی لئے میں کہتا ہوں کہ آجکل تو وقت بالکل موزوں ہے پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کے لئے۔ کیونکہ پوری دنیا کا ہوائی آپریشن معطل ہے۔ انہوں دنوں میں پی آئی اے کو نیا جنم دیا جا سکتا ہے۔
پائلٹ کی جعلی ڈگریاں تو صرف آیس کریم کے اوپر چیری جیسا ہے۔ اس کے علاوہ جو گند پی آئی اے میں ہے وہ تو ابھی سامنے ہی نہیں آیا۔ میٹرک پاس انجنیرز جن کو انجنیرنگ کا معنی نہیں معلوم، میٹرک پاس ٹیکنیشنز، سفارشی گراونڈ اسٹاف اور کیبن کا عملہ، ہر جگہ سفارشی اور رشوت والے گھسائے ہیں۔ خورشید شاہ اور مشاہداللہ نے بہت مال بنایا ہے بھرتیوں میں۔
کمال کی بات تو یہ ہے کہ پالپا ( یعنی پائلٹوں کی تنظیم ) سے لیکر دوسرے اسٹاف تک میں اپنے بندے بٹھائے ہیں۔ یونینز بنا کر رشوت اور سفارش سے بھرتی ہونے والوں کو جاب کی خفاظت کی ضمانت دی گئی۔
پی ائی اے لیبر یونین کے صدر پی پی پی کے سوشل میڈیا کا ہیڈ بھی ہے۔ یہ یونیز اور پائلٹوں کی تنظیم پچھلے دس سال میں( زرداری اور شریف کے دور 2008 سے لیکر 2019 تک ) گیارہ چئیرمینز کو بھگا چکی ہے ۔ اس سے اپ اندازہ لگا لیں کہ پی آئی اے کا مافیا کتنا طاقتور ہے۔ ایک مضبوط مافیا جنہوں نے موجودہ چئیرمین ارشد ملک کو بھی 6 مہینے عدالت کے ذریعے کام سے روکا۔ اگر جہاز کا حادثہ نہ ہوتا تو شاید یہ مافیا ایک بار پھر کامیاب ہو جاتا لیکن اس بار شاید یہ مافیا کسی کو بلیک میل نہ کر سکے۔
اس مافیا کی گندگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ دنیا کی بڑی ائیرلائنز یعنی امارات، برٹش ائیرویز، لفتانسا وغیرہ میں فی جہاز تقریبا 250 ملازمین ہوتے ہیں جبکہ پی آئی اے میں فی جہاز اندازا 450 کے لگ بھگ ملازمین ہیں۔ اب اپ خود اندازہ لگا لیں کہ کس بے رحمی سے پی آئی اے کو نوچا گیا ہے۔
آج اگر مشاہداللہ کہتا ہے کہ جعلی ڈگری والوں کو نوکری پر برقرار رکھو تو وہ اس لئے کہتا ہے کیونکہ اس نے ان سے پیسے لے کر جاب کی گارنٹی دی تھی۔ اب جب سب نوکری سے نکالیں جائیں گے تو وہ لوگ اس کے دروازے پر آئیں گے اور اپنے پیسے کا مطالبہ کریں گے۔
پی پی پی اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ تھا۔ انہیں یقین تھا کہ ہماری حکومتیں باری باری آئیں گی۔ کیا پتہ بیچ میں آ کر خان صاحب سارا کھیل بگاڑ دیں گے۔
پی آئی اے پر کل کی پابندی سے ذرا برابر فرق نہیں پڑا کیونکہ ہوائی آپریشن پہلے سے ہی معطل ہے دنیا کا۔ علامتی پابندی کا پریشر ہو سکتا ہے لیکن خسارہ کوئی نہیں۔ اصل خسارہ تو پی آئی اے کے اندر ہے۔
ان خالی الدماغ دانشوروں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ
E
کپی آئی اے کے ساتھ مسلہ 2012 سے قبل کا چل رہا ہے۔2012 میں بھی اسی طرح پابندی لگی تھی۔ پھر 2016 میں دوبارہ یہ ایشو اٹھا ۔ بار بار EASA تسلی بخش جوابات چاہتی تھی لیکن جواب دینے والے تو خود وہی سوال کھڑے کر چکے تھے جن پر EASA کو اعتراض تھا۔ 2012 میں زرداری کی حکومت تھی جس میں خورشید شاہ نے اپنے بندے اندر کئے۔ پھر 2016 میں نواز شریف کی حکومت تھی جس میں نالائق مشاہداللہ خان نے اپنے بندے اندر کروائے۔
ان دونوں نے وہی مسلے کھڑے کئے تھے جن کا جواب EASA مانگ رہا تھا۔ یعنی پائلٹوں کی قابلیت اور ٹریننگ، بھرتی کا طریقہ کار، گراونڈ سٹاف، انجنیرنگ وغیرہ۔ اب خورشید شاہ یا مشاہداللہ کیسے ان خرابیوں کا جواب دیتے جو یہ خود کھڑے کر چکے تھے۔
اسی لئے میں کہتا ہوں کہ آجکل تو وقت بالکل موزوں ہے پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کے لئے۔ کیونکہ پوری دنیا کا ہوائی آپریشن معطل ہے۔ انہوں دنوں میں پی آئی اے کو نیا جنم دیا جا سکتا ہے۔
پائلٹ کی جعلی ڈگریاں تو صرف آیس کریم کے اوپر چیری جیسا ہے۔ اس کے علاوہ جو گند پی آئی اے میں ہے وہ تو ابھی سامنے ہی نہیں آیا۔ میٹرک پاس انجنیرز جن کو انجنیرنگ کا معنی نہیں معلوم، میٹرک پاس ٹیکنیشنز، سفارشی گراونڈ اسٹاف اور کیبن کا عملہ، ہر جگہ سفارشی اور رشوت والے گھسائے ہیں۔ خورشید شاہ اور مشاہداللہ نے بہت مال بنایا ہے بھرتیوں میں۔
کمال کی بات تو یہ ہے کہ پالپا ( یعنی پائلٹوں کی تنظیم ) سے لیکر دوسرے اسٹاف تک میں اپنے بندے بٹھائے ہیں۔ یونینز بنا کر رشوت اور سفارش سے بھرتی ہونے والوں کو جاب کی خفاظت کی ضمانت دی گئی۔
پی ائی اے لیبر یونین کے صدر پی پی پی کے سوشل میڈیا کا ہیڈ بھی ہے۔ یہ یونیز اور پائلٹوں کی تنظیم پچھلے دس سال میں( زرداری اور شریف کے دور 2008 سے لیکر 2019 تک ) گیارہ چئیرمینز کو بھگا چکی ہے ۔ اس سے اپ اندازہ لگا لیں کہ پی آئی اے کا مافیا کتنا طاقتور ہے۔ ایک مضبوط مافیا جنہوں نے موجودہ چئیرمین ارشد ملک کو بھی 6 مہینے عدالت کے ذریعے کام سے روکا۔ اگر جہاز کا حادثہ نہ ہوتا تو شاید یہ مافیا ایک بار پھر کامیاب ہو جاتا لیکن اس بار شاید یہ مافیا کسی کو بلیک میل نہ کر سکے۔
اس مافیا کی گندگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ دنیا کی بڑی ائیرلائنز یعنی امارات، برٹش ائیرویز، لفتانسا وغیرہ میں فی جہاز تقریبا 250 ملازمین ہوتے ہیں جبکہ پی آئی اے میں فی جہاز اندازا 450 کے لگ بھگ ملازمین ہیں۔ اب اپ خود اندازہ لگا لیں کہ کس بے رحمی سے پی آئی اے کو نوچا گیا ہے۔
آج اگر مشاہداللہ کہتا ہے کہ جعلی ڈگری والوں کو نوکری پر برقرار رکھو تو وہ اس لئے کہتا ہے کیونکہ اس نے ان سے پیسے لے کر جاب کی گارنٹی دی تھی۔ اب جب سب نوکری سے نکالیں جائیں گے تو وہ لوگ اس کے دروازے پر آئیں گے اور اپنے پیسے کا مطالبہ کریں گے۔
پی پی پی اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ تھا۔ انہیں یقین تھا کہ ہماری حکومتیں باری باری آئیں گی۔ کیا پتہ بیچ میں آ کر خان صاحب سارا کھیل بگاڑ دیں گے۔
پی آئی اے پر کل کی پابندی سے ذرا برابر فرق نہیں پڑا کیونکہ ہوائی آپریشن پہلے سے ہی معطل ہے دنیا کا۔ علامتی پابندی کا پریشر ہو سکتا ہے لیکن خسارہ کوئی نہیں۔ اصل خسارہ تو پی آئی اے کے اندر ہے۔




Comments
Post a Comment