Posts

انسان بڑے خسارے میں ھے

Image
‏کویت کا سب سے امیر ترین آدمی ناصرالخلکی یہ تمام خزانے سونے کے جہاز سونے کی کاریں تمام نعمتیں چھوڑ کر خالکِ حقیقی سے جاملا اپنے ساتھ ایک کیل بھی نہ لے جاسکا سب کچھ یہی پر پڑا ھوا ھے انسان کو پتہ ھے سب کچھ بھیانسان کی حوس پوری نھیں ھوتی 😢انسان بڑے خسارے میں ھے😭😭 Foodworld Recipe like comments and subscribe.

بابا کھڑک سنگھ

Image
یہ ھے وہ بابا کھڑک سنگھ جس کے کھڑکنے سے کھڑکتی ھیں کھڑکیاں اور کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکھتے ھیں کھڑک سنگھ ۔ تاریخ کا ان پڑھ جج جسٹس بابا کھڑک سنگھ ۔ بابا کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے۔ ایک لمبی چوڑی جاگیر کے مالک تھے۔ جاگیرداری کی یکسانیت سے اکتا کر ایک دن بھانجے سے کہا، " تیرے شہر میں سیشن جج کی کرسی خالی ہے۔ ( اس دور میں سیشن جج کی کرسی کا آرڈر انگریز وائسرائے جاری کرتے تھے ) تُو لاٹ صاحب کے نام چھٹی لکھ دے اور مَیں سیشن ججی کا پروانہ لے آتا ہوں" مہاراجہ سے چھٹی لکھوا کے مہر لگوا کر ماموں لاٹ صاحب کے سامنے حاضر ہوگئے۔ وائسرائے نے پوچھا: نام بولے "کھڑک سنگھ" تعلیم ؟ بولے : کیوں سرکار ؟ مَیں کوئی اسکول میں بچے پڑھانے کا آرڈر لے آیا ہوں؟ وائسرائے ہنستے ہوئے بولے: سردار جی! قانون کی تعلیم کا پوچھا ہے، آخر آپ نے اچھے بروں کے درمیان تمیز کرنی ہے، اچھوں کو چھوڑنا ہے، بُروں کو سزا دینی ہے۔ کھڑک سنگھ مونچھوں کو تاؤ دے کر بولے، سرکار اتنی سی بات کے لئے گدھا وزن کی کتابوں کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کام میں برسوں سے پنچائت میں کرتا آیا ہوں اور ای...

ایک اور جرم

Image

یونان میں ایک بار پھر کرونا وائرس کا پھیلاؤ

Image
کورونا وائرس: اب سے سپر مارکٹس میں ماسک پہننا  لازمی ہے!   یونانی حکومت نے ایک فیصلہ جاری کیا ہے جس کے تحت صارفین کو سپر مارکیٹوں میں چہرے پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ 26 جولائی تک موزوں ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ طویل عرصے کے لیے بڑھا دیا جائے۔   ڈپٹی منسٹر آف ڈویلپمنٹ کے مطابق، سپر مارکیٹوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو ایسے صارفین کو فیس ماسک پیش کریں جن کے پاس موجود نہیں ہے۔ اگر کوئی سپر مارکیٹ میں بغیر چہرے کے ماسک کے ملتا ہے تو اسے 150 یورو جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ یونانی اسپتالوں، ٹیکسیوں، ہوائی اڈوں، طیاروں اور عوامی آمدورفت میں بھی چہرے پر ماسک پہننا لازمی ہے۔   سٹڈیز سے پتہ چلتا ہے کہ چہرے پر ماسک پہننا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں خاصا موثر  ہے۔ اسی وجہ سے یہ تجویز کی جاتی ہے کہ تمام عوامی انڈور مقامات پر فیس ماسک پہنیں۔   دوسرے ممالک کے مقابلے میں یونان میں نئے کورونا انفیکشن کی تعداد اب بھی کم سطح پر  ہے، جس میں روزانہ تقریبا 25 سے 35 نئے انفیکشن ہوتے ہیں۔ لیکن نئے کیسیز کی تعداد میں قدرے اضافہ ہوا ہے، کیونکہ جول...

Dr. Ruth Fau was buried with state honors

Image
Dr. Ruth Fau was buried with state honors  August 19, 2017  Share this post Email Share this post Share this post on Facebook Share this post on Twitter  Image copyrightAFP  German doctor Ruth Fau, who dedicated her life to leprosy patients in Pakistan, has been laid to rest with state honors in Karachi.  Earlier, the last rites of Dr. Ruth Fau were performed with full state honors on the instructions of the Prime Minister of Pakistan Shahid Khaqan Abbasi.  'Mother Teresa of Pakistan' Dr. Ruth Fau passed away in Karachi on the night of August 10 last week.  The last rites were attended by President Mamnoon Hussain, Army Chief Qamar Javed Bajwa and Governor Sindh besides other important personalities.  Dr. Ruth was also given a 21-gun salute.  * Mother Teresa of Pakistan passed away  "Don't associate Dr. Ruth with Mother Teresa."  Armed forces personnel took Dr. Ruth's khaki body to St. Patrick's Church in the Sa...

کرونا کا جن واپس بوتل میں ڈالنے کی کوشش

Image
کرونا کا جن واپس بوتل میں ڈالنے کی کوشش پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا جس کے ایک مہینے بعد متاثرین کی تعداد تقریباً 1300تک پہنچ چکی ہے۔ ملک میں کرونا وائرس کے متاثرین کی اکثریت ایران سے بذریعہ تفتان سرحد آئی اور پھر ملک بھر میں پھیل گئی۔ اس وقت کرونا وبا سے لڑنے میں سندھ حکومت اور اس کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ دوسروں صوبوں سے آگے ہیں اور وہ بڑھ چڑھ کر اسے قابو کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ صابر نذر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی کوششوں کو کچھ یوں دیکھتے ہیں۔

PIAپی آئ اے پر بین کی اصل حقیقت

Image
بڑی حیرانگی کی بات ہے کل سے کچھ لوگوں نے یہ  دھمال م کے رکھا ہے کہ پی آئی اے پر EASA یعنی یورپی یونین ایویشن سیفٹی ایجنسی نے 6 ماہ کی پابندی لگا کر پی آئی اے کو اور نقصان پہنچایا ، ان نالائقوں کو یہ پتہ نہیں کہ ان دنوں  دنیا کی تقریبا تمام چھوٹی بڑی ائیر لائینز اپنے جہاز گراٶنڈ کر چکی ہیں۔ دنیا کا فضائی آپریشن تقریبا معطل ہے سرحدیں بند ہیں ، صرف ایمرجنسی پروازیں چل رہی ہیں۔ ان خالی الدماغ دانشوروں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ  E ک پی آئی اے کے ساتھ مسلہ 2012 سے قبل کا چل رہا ہے۔2012 میں بھی اسی طرح پابندی لگی تھی۔ پھر 2016 میں دوبارہ یہ ایشو اٹھا ۔ بار بار EASA تسلی بخش جوابات چاہتی تھی لیکن جواب دینے والے تو خود وہی سوال کھڑے کر چکے تھے جن پر EASA کو اعتراض تھا۔  2012 میں زرداری کی حکومت تھی جس میں خورشید شاہ نے اپنے بندے اندر کئے۔ پھر 2016 میں نواز شریف کی حکومت تھی جس میں نالائق مشاہداللہ خان نے اپنے بندے اندر کروائے۔  ان دونوں نے وہی مسلے کھڑے کئے تھے جن کا جواب EASA مانگ رہا تھا۔ یعنی پائلٹوں کی قابلیت اور ٹریننگ، بھرتی کا طریقہ کار، گراونڈ سٹاف، انجنیرنگ ...